الف قسط نمبر 9 – عمیرہ احمد

Alif by Umera Ahmed

’’الف ‘‘
قسط نمبر09

میرے اُستادِ محترم!
اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ سے مل کر آیا ہوں اور ابھی تک سحر زدہ پھر رہا ہوں۔ پیرس فیشن ویک میں شرکت کے لئے پیرس آیا ہوا ہوں اور شانزے لیزے پر دُنیا کی چکا چوند میں سے ہر شام گزرتے ہوئے آپ کو یاد کرتا ہوں۔ خوب صورت عورتوں کے ہجوم میں مہنگے ترین برانڈز کی یلغار میں دُنیا کی اس بھیڑ میں سکون صرف اُس تخلیق میں ہے جو آپ کرتے ہیں، وہاں ترکی کے اُس چھوٹے سے گھر کی خاموشی اور سکون شانزے لیزے کی اس چکا چوند پر بھاری پڑتی ہے۔آپ کے پاس اُس گھر میں بیٹھ کر مجھے نہ پیرس یاد آتا تھا ، نہ میلان مگر یہاں اس دُنیا میں گھومتے ہوئے آپ کی باتیں اور آپ کی خطاطی میرے ساتھ گھومتی ہے، میرا سایہ بن کر۔۔۔ نہ میں کان بند کرسکتا ہوں نہ آنکھیں۔۔۔ کر بھی لوں تو فر ق نہیں پڑے گا، آپ تو کہیں دل اور دماغ کا حصہ بن گئے ہیں۔۔۔ یا شاید روح کا۔۔۔ بڑا غلط کیا آپ نے اِسے بیدار کر کے۔۔۔ اب یہ اِس ہجوم کے بیچ میں رہنا نہیں چاہتی جہاں میں رہتا ہوں، مجھ سے اپنے جیسوں کی محبت مانگتی ہے۔۔۔ وہ میں اِسے کہاں سے لاکر دوں عبدالعلی صاحب؟ میں تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو جانتا ہی نہیں جس کے پاس یہ خوش ہوجائے اور اسے خوش کرنے کی تلاش میں نکلوں گا تو دُنیا چھوڑنی پڑے گی، وہ میں چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اس ’’دُنیا‘‘ کو پانے کے لئے میں نے بہت محنت کی ہے۔ اس دُنیا کو پاکر کھودینے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے۔آپ تو مومن ہیں، آپ نے کبھی ’’دُنیا‘‘ کی تمنا کی ہی نہیں۔ وہ بار بار چل کر آپ کے پاس آئی بھی تو آپ نے اپنی روح کے دروازے بند رکھے۔ مگر آپ کبھی کسی ایسے کو جانتے ہیں جو دُنیا کو پاکر اُسے خود کھودے؟ کوئی ایسا ملے تو مجھے ضرور ملوائیں اُس سے۔ ابراہیم کی مشکل شاید وہ ہی آسان کردے۔
اس بار آپ کو دیکھ کر دل بڑا بوجھل ہوا، شاید اس لئے بھی زیاد ہ یاد آرہے ہیں آپ۔۔۔ آپ کو غمزدہ اور رنجیدہ دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ یاد آتے رہے، میں نے پہلی بار جانا میرے یورپ آجانے اور پیچھے سارے رابطے ختم کردینے کے بعد وہ کیسے تڑپتے ہوں گے۔ طہٰ تو مرگیا ، مگر میں نے تو زندہ ہوتے ہوئے بھی اُنہیں ترسادیا۔ پتہ نہیں کیا ہوا تھا عبدالعلی صاحب کہ یورپ آکر پیچھے رہ گئے رشتوں کو بھول ہی گیا تھا میں۔۔۔ گاؤں۔۔۔ گھر۔۔۔ ماں ، باپ، بہن ، بھائی۔۔۔ سب۔۔۔ آزاد پرندہ بن کر جینا چاہتا تھا میں پر یہ یاد ہی نہیں رہا تھا مجھے کہ آزاد پرندہ اُڑتا آسمان میں ہے مگر گھونسلہ وہ بھی درخت پر ہی بناتا ہے جس کی جڑیں مٹّی میں ہوتی ہیں۔



آپ کے طہٰ کے لئے غم کو دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ نہیں بھول رہے۔ آپ ظالم نہیں تھے پر میں ظالم تھا۔ ظالم کو اپنے ظلم کا احساس ہو پر تب تک مظلوم نہ رہے تو پھر ظالم کیا کرے۔۔۔؟ میرے ماں باپ سالوں پہلے دُنیا سے چلے گئے اور مجھے احساسِ زیاں آج ہورہا ہے۔۔۔ اب اگر توبہ بھی کروں تو کس منہ سے کروں؟
میرا دل چاہتا ہے میں آپ سے آپ کا غم بانٹ لوں۔ کاش غم کوئی چیز ہوتا جو میں آپ سے لے کر کہیں دور پھینک آتا۔
میں نہیں جانتا آپ کا پچھتاوا کیا ہے جس کا ذکر باربار کرکے آپ چُپ ہوجاتے تھے۔ مگر میں یہ بھی نہیں جانتا طہٰ آپ کے پاس کیوں واپس نہیں آیا مگر میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اُس نے جو کیا کیوں کیا ہوگا۔۔۔ پیار بہت کچھ بھلا دیتا ہے۔ رب سب سے پہلے۔۔۔ماں باپ اُس کے بعد۔۔۔ دُنیا سب سے آخر میں۔۔۔ میں گزرا ہوں اس راستے سے اس کے سب نشیب جانتا ہوں اور فراز تو اس راستے میں کہیں ہے ہی نہیں اس کا کیا ذکر کروں۔
طہٰ کی بدقسمتی بس اتنی کہ اُس کی قسمت میں شوبز نس کی عورت لکھی تھی۔ میں پاکستان کے شوبزنس کو نہیں جانتا۔ اٹلی اور یورپ کے شوبزنس کو جانتا ہوں۔ شوبزنس کی عورت میں حیا نہیں رہتی یہ اُس پیشے کی مجبوری ہے پر وفا کیوں نہیں ہوتی یہ وہ خود بھی نہیں جانتیں۔ طہٰ نیک روح تھا بھٹک گیا۔ شوبزنس بڑی ظالم دُنیا ہے اور اس دنیا سے جڑنے والے بھی۔ یہ سراب بن کر نظروں کو بہکاتا ہے اور تب تک بہکاتا ہی رہتا ہے جب تک انسان اندھا نہ ہوجائے۔ آپ کی بہو ایک بُری عورت تھی اس لئے آپ کے لئے آزمائش بن کر آئی۔ لیکن عبدالعلی صاحب یہ آزمائش آپ کی زندگی میں نہ آتی تو آپ کا مرتبہ کیسے بڑھتا۔ نیکوں کے راستے میں آزمائشیں آتی ہیں اور بُروں کے راستے میں مخمل۔ یہ آپ ہی نے کہا تھا نا مجھے؟
اُستاد محترم آپ کی باتیں آپ ہی کو لکھتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہورہا ہوں میں ۔ پر کیا کروں آپ کو دلاسہ دینا چاہتا ہوں اور اُس کے لئے میرے پاس لفظوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اگر میں کچھ کرسکتا ہوں آپ کے لئے تو مجھے حکم دیجئے۔ سید ابراہیم اُڑتا ہوا آئے گا۔ آپ کا بیٹا نہیں بن سکتا مگر آپ کا فرمانبردار ضرور ہوسکتا ہوں۔
ایک گمراہ
سید ابراہیم
*۔۔۔*۔۔۔*

Facebook Comments

You may also like this

09 May 2022

دانہ پانی - عمیرہ احمد - قسط 2

<p style="text-align: right;">بسم اللہ الرحمن الرحیم دانہ پانی قسط نمبر02 عمیرہ احمد<

UA Books
12 April 2022

Daana Paani English Episode 1

<span style="font-size: 24px;"><strong>Daana Paani </strong>by <a href="https://uabooksonline.com/author/umera-ahm

UA Books
06 April 2022

دانہ پانی - عمیرہ احمد - قسط 1

<p style="text-align: right;"><span style="font-family: 'Jameel nastaleeq';">بسم اللہ الرحمٰن

UA Books

Leave Comment