”ماں کے بارے میں ایک لفظ نہیں… ایک لفظ نہیں…… جس عورت سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے آپ۔ میں نے تین سال تک فارن سروس میں رہ کر آپ کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ میں نے اپنے ضمیر کو بالکل سلا دیا، آپ نے جس طرح چاہا، مجھے استعمال کیا۔ آپ کی وجہ سے میرا کیرئیر خراب ہوا۔ میرا سروس ریکارڈ برا رہا لیکن میں نے وہی کیا جو آپ نے کہا۔ مگر اب نہیں…… ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور آپ کے نزدیک میری حیثیت ایک ربڑ سٹیمپ سے زیادہ نہیں ہے۔ میرے وجود کو استعمال کر کے آپ اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ اب میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا۔ کچھ بھی آپ کی مرضی کے مطابق نہیں کروں گا۔”
”کیاکیا ہے تم نے میرے لئے؟”
”کیا نہیں کیا میں نے آپ کے لئے۔ آپ نے تین سال تک مجھے استعمال کیا ہے۔”
” تم نے میرے لئے کچھ کر کے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ جس جگہ تمہاری پوسٹنگ ہوئی ہے وہاں تم جیسے جونئیر آفیسر کی پوسٹنگ میری مدد کے بغیر کیسے ہو سکتی تھی۔ جو سٹارٹ میں نے تمہیں تمہاری سروس میں دیا، وہ بہت کم لوگوں کو ملتا ہے مگر تمہیں میرا کوئی احسان یاد ہی نہیں ہے۔”
”آپ نے میری پوسٹنگ اس لئے وہاں کروائی تاکہ آپ اس سیٹ کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکیں۔ آپ مجھے فارن سروس میں لے کر ہی اس لئے آئے تھے تاکہ مجھے استعمال کر کے اپنے لئے کچھ اور فائدہ حاصل کر سکیں۔”
”تمہاری اس ضد کی وجہ سے جانتے ہو کہ مجھے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے؟”
اس بار ان کا لہجہ قدرے نرم تھا۔
”میری بلا سے ، آپ کو کیا نقصان پہنچتا ہے اور کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ یہ آپ کے سوچنے کی باتیں ہیں۔میری نہیں۔” وہ ابھی بھی اتنا ہی تلخ تھا۔
”تم اس لڑکی سے شادی نہیں کرو گے؟”
”نہیں ، میں کسی بھی قیمت پر شادی نہیں کروں گا۔”
”جانتے ہو اس لڑکی سے شادی کر کے تم کہاں پہنچ سکتے ہو؟”
”آپ میرا ہمدردبننے کی کوشش مت کریں میں اس سے شادی کر کے کہیں نہیں پہنچوں گا۔ ہاں اپ کے سارے پرابلمز حل ہو جائیں گے۔ سروس میں آپ کو دو سال کی ایکس ٹینشن مل جائے گی آپ کے خلاف چلنے والی انکوائریز کی رپورٹس غائب ہو جائیں گی۔ ایمبیسی کے فنڈز میں کیا جانے والا بلنڈر گول ہو جائے گا اور مستقبل کے لئے جو پرمٹ اور کوٹے آپ کو چاہئیں وہ بھی آپ کو مل جائیں گے۔ مگر مجھے اب آپ کے لئے بلینک چیک نہیں بننا۔”
”تم اس سب کے لئے بہت پچھتاؤ گے۔”
”میں پہلے ہی بہت پچھتا چکا ہوں اور اب اور نہیں پچھتاؤں گا۔”
”میں تمہیں آسمان پر لے جانا چاہتا ہوں اور تم ایک گٹر کے کیڑے بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہو۔”
”ہاں ! آپ مجھے آسمان پر لے جانا چاہتے ہیں لیکن میرے گلے میں پھند ہ ڈال کر مجھے اوپر اٹھانا چاہتے ہیں۔”
”میں جانتا ہوں میرے خلاف یہ سب کچھ تمہارے دماغ میں ڈالنے والا کون ہے۔ میں اس عورت کو دیکھ لوں گا۔”
جہانگیر نے زہریلے لہجہ میں کہاتھا۔
”وہ عورت میری ماں ہے ، اور میں اس سے پچھلے چھ سال سے نہیں ملا، اور آپ کو جاننے کے لئے مجھے کسی سے کچھ سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بغیر ہی میں آپ کو بہت اچھی طرح سمجھ چکا ہوں۔”
”تمہیں یہ جو بولنا آگیا ہے تو صرف میری وجہ ہے۔ میرے نام، میری مدد کے بغیر تم سے کوئی ہاتھ ملانا بھی پسند نہ کرے گا۔”
”آپ کا نام میرے لئے کسی فخر کا باعث نہیں ہے۔ آپ اپنی ریپیوٹیشن بہت اچھی طرح جانتے ہیں، اورایسی ریپیو ٹیشن والے شخص کا حوالہ دینا بہت بڑی حماقت ہے ، اور میں ایسی حماقت نہیں کرتا۔ عمر کو جہانگیر جیسے لاحقہ کے بغیر بھی بہت سے لوگ جانتے ہیں اور وہ اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر میرے نام کے ساتھ آپ کا نام ہے تو یہ میری مجبوری ہے، میری ضرورت نہیں۔ مجھے فارن سروس میں لاکر آپ نے میری جو فیور کی، میں وہ لوٹا چکا ہوں۔ اب نہ تو آپ ہی میرے لئے کچھ کریں نہ میں آپ کے لئے کروں گا۔”