میری ذات ذرّہ بے نِشاں ۔ عمیرہ احمد
میری ذات ذرّہ بے نِشاں ۔ عمیرہ احمد ”کیا میں عارفین عباس سے مل سکتی ہوں؟” بیل بجانے پر ایک لمبا تڑنگا چوکیدار نمودار ہوا تھا اور اس نے کچھ […]
میری ذات ذرّہ بے نِشاں ۔ عمیرہ احمد ”کیا میں عارفین عباس سے مل سکتی ہوں؟” بیل بجانے پر ایک لمبا تڑنگا چوکیدار نمودار ہوا تھا اور اس نے کچھ […]
مات ۔ عمیرہ احمد اس نے آج پھر مجھے فون کیا تھا۔ ”ایمن اسے کہو مجھے معاف کر دے ایک بار صرف ایک بار مجھ سے مل لے، مجھے اپنی […]