Blog

_fabd499b-2fdc-47e2-8653-08fc96ce6594

اس کا خوف اب قدرے کم ہو گیا۔ وہ لڑکے اب بہت دور رہ گئے تھے۔ مگر وہ اب بھی انہیں سڑک پر دیکھ سکتی تھی، اور تب ہی اچانک اس نے کھڑے ان لڑکوں کو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے دیکھا۔ علیزہ کا سانس رکنے لگا۔ ان لڑکوں کی گاڑی اب اس کی طرف آرہی تھی۔ یقیناً اس لڑکے نے ٹائر تبدیل کر لیا تھا اور اب وہ گاڑی کو ان لڑکوں کی طرف لارہا تھا اور اس کے بعد…
وہ جانتی تھی، وہ اس کے بعد کیا کرتے۔ وہ ایک بار پھر اس کے پیچھے آتے اور اس بار وہ ان سے کسی طرح جان نہیں چھڑا سکتی تھی۔
وہ اب گاڑی پر سوار ہو رہے تھے اور علیزہ جانتی تھی کہ چند لمحوں کے بعد وہ اس کے سر پر ہوں گے۔ اس نے دعائیں پڑھتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ کچھ اور بڑ ھا دی۔
اور پھر اچانک اسے سڑک نظر آگئی۔ گیئر بدلتے ہوئے اس نے گاڑی کو اس سڑک پر ڈال دیا۔ وہ بھی ایک ذیلی سڑک تھی۔ مگر اب علیزہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کون سی سڑک ہے ۔ اسے واحد تسلی یہ تھی کہ گاڑی اب ریورس گئیر میں نہیں تھی اور وہ تیز رفتاری سے اسے چلا سکتی تھی مگر سامنے سے آتی ہوئی ہوا اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
تب ہی اس نے سائڈ مرر سے ان لڑکوں کو اس روڈ پر ٹرن لیتے دیکھا۔ اس نے ہونٹ بھنچ لیے۔ وہ گاڑی بہت تیز رفتاری سے اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔ علیزہ نے بہت تیزی سے ایک اور ٹرن لیا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا۔ اس کے اعصاب جواب دیتے جا رہے تھے۔ اسے اندازہ ہونے لگا کہ وہ بہت تیز رفتاری سے کار نہیں چلا سکتی کیونکہ ٹوٹی ہوئی ونڈ اسکرین سے آنے والی ہوا کے تھپیڑے اسے سڑک پر کچھ بھی دیکھنے نہیں دے رہے تھے۔ وہ سڑکیں ویران تھیں۔ سامنے سے کوئی ٹریفک نہیں آرہی تھی۔اس لئے وہ کسی نہ کسی طرح ان پر گاڑی چلا رہی تھی۔ مگر وہ جب بھی مین روڈ پر پہنچتی وہ کسی نہ کسی حادثے کا شکار ضرور ہو جاتی۔ وہاں وہ اس طرح آنکھویں کھولتے بند کرتے گاڑی نہیں چلا سکتی تھی۔



وہ پھر بھی مین روڈ پر جانا چاہتی تھی، اس کا خیال تھا وہاں جا کر وہ گاڑی روک کر سڑک پر اتر جائے گی اور مدد لے لے گی۔ وہ جانتی تھی کہ اتنی ٹریفک اور لوگوں کے درمیان وہ لڑکے اس تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اسے اب اپنی اور شہلا کی حماقت کا احساس ہو رہا تھا۔ انہیں ان لڑکوں سے جان چھڑانے کے لئے کسی بھی چوک میں تعینات ٹریفک کانسٹیبل کے پاس گاڑی روک دینی چاہئے تھی۔ وہاں ٹریفک کانسٹیبل اور لوگ کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کر سکتے تھے۔ اس کی دوسری حماقت یہ تھی کہ ایک بار شہلا کے گھر پہنچنے کے بعد اس نے دوبارہ اکیلے نکلنے کی غلطی کی۔
”میں اس کے ڈرائیور کے ساتھ کیوں نہیں آئی یا اپنی گاڑی وہاں چھوڑ کر میں اس کی گاڑی لے آتی۔ کم از کم یہ لوگ گاڑی کو اتنی جلدی نہ پہچان لیتے۔ ” وہ خود کو کوس رہی تھی۔
ایک ذیلی سڑک سے دوسری ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ بری طرح اس علاقے میں پھنس چکی ہے۔ وہ یہ تک نہیں پہچان پا رہی تھی کہ وہ کس سڑک پر ہے۔ اسے یہ بھی خوف تھا کہ گاڑی کی ٹنکی میں زیادہ پیٹرول نہیں تھا اور گاڑی کبھی بھی بند ہو سکتی تھی یا اس طرح چکر لگاتے لگاتے اس کا ٹائر فلیٹ ہو جاتا تو…
”مجھے کسی گھر کے اندر داخل ہوجانا چاہئے… کسی بھی گھر کے اندر… اور پھر ان سے مدد لینی چاہئے۔” اس نے یک دم فیصلہ کر لیا۔ علیزہ نے کارچلاتے ہوئے اب گھرو ں کے گیٹ دیکھنے شروع کر دیئے اور پھر ایک موڑ ہوئے وہ گاڑی ایک گھر کے کھلے گیٹ کے اندر لے گئی۔
وہ گاڑی روکے بغیر سیدھا پورچ میں لے گئی اور وہاں کھڑی گاڑی کے پیچھے اسے روک دیا۔ اس نے اپنے پیچھے گیٹ کی طرف سے آتے ہوئے چوکیدار کو چلاتے سنا۔
علیزہ نے برق رفتاری سے کار کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر آئی۔ ” گیٹ بند کر دو۔” اس نے چلا کر چوکیدار سے کہا۔ مگر وہ اس کی طرف آتا رہا۔ اسے اچانک خوف محسوس ہونے لگا کہ لڑکوں کی گاڑی بھی اسی طرح کھلے گیٹ سے اندر آسکتی ہے۔ اگر انہیں یہ شک ہو گیا کہ یہ اس کا اپنا گھر نہیں ہے تو…
”گیٹ بند کردو… کچھ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔” وہ بلند آواز میں چلائی اور تب ہی اسے اندازہ ہوا کہ چوکیدار اس کی بات سن نہیں پا رہا۔ وہ خاصا دور تھا اور مسلسل اس کی طرف آرہا تھا۔
”مجھے خود بھاگ کر گیٹ بند کر دینا چاہئے۔” اس نے سوچا اور ایک قدم بڑھایا اور عین اس وقت اس نے کھلے گیٹ کے سامنے سڑک پر ایک گاڑی کو آہستہ آہستہ رکتے ہوئے دیکھا۔ وہ چاروں گاڑی میں بیٹھے ہوئے گردنیں موڑے اندر کا جائزہ لے رہے تھے اور علیزہ ان کے بالکل سامنے تھی۔ اس نے پلک جھپکتے میں ان کو گاڑی روکتے اور پھر تھوڑا سا پیچھے ہوتے دیکھا اور وہ جان چکی تھی کہ وہ لوگ گاڑی اندر لانے والے ہیں۔
وہ سر پٹ گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بھاگی اور اسے کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
وہ اس گھر کا لاؤنج تھا۔ علیزہ نے ایک عورت کو چیختے سنا۔ اس نے اس عورت پر توجہ دیئے بغیر پلٹ کر اس دروازے کو بند کیا اور اسے لاک کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے ایک پل میں اندازہ ہو گیا کہ وہ دروازہ لاک نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کی چابی لاک ہول میں نہیں تھی۔ دروازے پر کوئی چٹخنی بھی نہیں تھی۔



علیزہ نے مڑ کر لاؤنج میں دیکھا۔ وہاں ایک عورت اور مرد حواس باختہ اسے دیکھ رہے تھے۔
”کون ہو تم، اندر کیوں آئی ہو؟” مرد چلایا۔
”پلیز مجھے چھپا لیں۔ میرے پیچھے کچھ لڑکے ہیں، وہ اندر آرہے ہیں۔” وہ ان سیڑھیوں کی طرف بھاگتی ہوئی بولی۔ جو اس نے لاؤنج میں دیکھی تھیں۔ پلک جھپکتے میں وہ سیڑھیوں پر تھی۔
”نہیں، تم ہمارے گھر سے چلی جاؤ۔ نکلو یہاں سے۔” وہ مرد کہہ رہا تھا۔ مگر علیزہ رکی نہیں۔
اس نے باہر کچھ بھاگتے قدموں کی آوازیں سن لی تھیں اور وہ جانتی تھی کہ لاؤنج کا دروازہ کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔
برق رفتاری سے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ اوپر کی منزل پر آگئی اور ایک کوریڈور میں داخل ہوئی ۔ وہاں کچھ کمروں کے دروازے نظر آرہے تھے۔ اس نے پہلا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ وہ نہیں کھلا، وہ لاکڈ تھا۔
تب ہی اس نے لاؤنج میں شور سنا۔ وہاں بہت سے لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مرد اب بلند آواز میں چلا رہا تھا۔ علیزہ بھاگتی ہوئی اگلے دروازے پرپہنچی اور ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول دیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ کمرے کے اندر تھی۔ اس نے پلٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ کی ہول میں لگی ہوئی چابی اس نے گھما کر دروازے کو لاک کر دیا اور اس کے بعد اوپر لگا ہوا بولٹ چڑھا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!