Blog

_fabd499b-2fdc-47e2-8653-08fc96ce6594

کچھ دیر وہ بنا کسی آہٹ کے کھڑکیوں کے سامنے کھڑی رہی اور ایک بار پھر اندر واپس آگئی۔ نانو اور انکل جہانگیر کی بحث اب بھی جاری تھی۔ وہ عمر کے کمرے کی طرف جانے کے بجائے اپنے کمرے میں آگئی۔ کپڑے بدل کے وہ بستر پر لیٹنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں نیند کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ عمر کے وعدہ کے باوجود اس کے بارے میں پریشان تھی اور اسے حیرانی تھی کہ انکل جہانگیر عمر کے بارے میں فکر مند کیوں نہیں ہیں۔ انہیں اس کی زندگی کی پرواہ کیوں نہیں ہے۔ کچھ بے چین ہو کر وہ ایک بار پھر اٹھ گئی اور کمرے کے چکر لگانے لگی۔ پھر تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
سونے سے پہلے ایک خیال آنے پر وہ دوبارہ اپنے کمرے سے نکل کر عمر کے کمرے کی طرف گئی تھی۔ نانو کے کمرے کا دروازہ اب بند تھا وہاں اب خاموشی تھی۔ عمر کے کمرے کی لائٹ اب بھی آن تھی لیکن کمرے میں سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔ عمر کبھی بھی لائٹ آن کر کے نہیں سوتا تھا۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی، اور اگر اس وقت سو نہیں رہا تو پھر کیا کر رہاتھا۔ اس نے بے قراری سے سوچا۔
کچھ دیر کمرے کے سامنے کھڑے رہنے کے بعد وہ واپس کمرے میں آگئی۔ اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ بہت دیر تک عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
اگلی صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی۔ گھڑی ساڑھے نو بجا رہی تھی۔ آنکھیں کھولتے ہی جو پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا، وہ عمر کا تھا۔



کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلی، گھر میں بالکل ہی خاموشی تھی۔ عمر کے کمرے کا دروازہ اب بھی بند تھا۔ وہ دروازہ پر دستک دینا چاہ رہی تھی لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گئی۔
نانو کو ڈھونڈتے ہوئے وہ کچن میں آگئی۔ اسے نانو قدرے پریشان لگ لگیں۔ کچن میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ اسے دیکھتے ہی انہوں نے کہا۔
”میں تمہیں جگانے ہی والی تھی۔ اچھا ہوا کہ تم خود اٹھ گئیں۔ آج یونیورسٹی جانے کا ارادہ نہیں ہے؟”
”نہیں نانو !میں آج یورنیورسٹی نہیں جاؤں گی!”
اس نے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھنچتے ہوئے کہاتھا۔
”کیوں !”
” بس میرا دل نہیں چاہ رہا۔” نانو اوون میں کوئی چیز رکھ رہی تھیں۔
”پھر ناشتہ کر لو۔”
”نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا۔”
اس نے انکار کر دیا تھا۔
”نانو انکل جہانگیر کہاں ہیں؟”
اچانک اس نے پوچھا ۔
”وہ صبح چلا گیا ہے!”
علیزہ کو اچانک ہی بے حد اطمینان کا احساس ہواتھا۔
”عمر سے دوبارہ ان کی کوئی بات ہوئی۔”
”نہیں، عمر سو یا ہوا تھا میں نے اسے نہیں جگایا۔”
نانو نے کام کرتے ہوئے کہا۔
”اب جگا دوں اسے؟”
علیزہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا تھا۔
”نہیں ،ابھی اسے سونے دو۔”
نانو نے اس سے کہا تھا۔ کچن میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی تھی۔
”نانو ! عمر نے یہ سب کیو ں کیا؟”
اس نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا۔
نانو چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہیں۔ ”پتا نہیں۔”
انہوں نے مایوسی سے سر ہلایا تھا۔
”نانو ! وہ بالکل بدل گیا ہے نا۔”
”ہاں ! ایسا تو ہونا ہی تھا۔”
”مگر کیوں نانو ! عمر تو……وہ تو…… مجھے یقین نہیں آتا نانو! عمر ایساہو جائے گا۔ ابھی کل تک تو وہ بالکل ٹھیک تھا، ایک دن میں ہی کیا ہو گیا؟”
”میرے پاس تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں ہے علیزہ!”
نانو نے بے بسی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہاتھا۔
”جہانگیر انکل اسے کیوں پریشان کر رہے ہیں ۔اس کی مرضی کے خلاف اس سے ایک کام کیوں کروانا چاہتے ہیں۔”



”وہ بھی مجبور ہے!”
انہوں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
”نہیں نانو ! وہ مجبور نہیں خود غرض ہیں۔”
نانو نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
وہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی پھر اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔
دوپہر کے دو بجے وہ ایک بار پھر پریشان ہو کر اپنے کمرے سے نکلی۔ عمر کا دروازہ اب بھی بند تھا۔ اس نے بنا سوچے سمجھے دروازہ پر دستک دی۔ اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔ علیزہ نے ایک بار پھر دستک دی۔ اس بار دستک کی آواز زور دار تھی۔ مگر اندر خاموشی نہیں ٹوٹی۔اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار دروازہ بجایا۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ علیزہ خوفزدہ ہوگئی۔
”عمر دروازہ کیوں نہیں کھول رہا۔ وہ اتنی گہری نیند تو نہیں سوتا۔”
اس نے دم سادھے سوچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!