Blog

Maat Title

مجھے لگا تھا چند لمحوں کے لیے زمین کی گردش تھم گئی تھی۔ میں نے زندگی میں بس ایک ہی جھوٹ بولا تھا اور وہ کہاں آ کر آشکار ہوا تھا، حدید کی آواز میں بہت برہمی تھی۔
”ہم دونوں میں انڈر اسٹینڈنگ نہیں تھی۔” کچھ لمحوں کے بعد سعد نے جواب دیا تھا۔



”کس انڈر اسٹینڈنگ کی بات کر رہے ہیں آپ، جنھیں اب آپ نے بیوی بنا کر رکھا ہے کیا ان کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ ہے آپ کی؟” حدید کی آواز میں تمسخر تھا میں نے دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
”کیا تم ثمن سے ملے ہو۔” سعد نے بہت ہلکی آواز میں سوال کیا تھا۔
”ابھی تک تو نہیں مگر ملوں گا ضرور۔” حدید نے بلند آواز میں کہا تھا اور میرے دماغ میں بہت سالوں پہلے ثمن کی کہی بات گونجی تھی۔
”میں چیزوں کو چھینتی نہیں ہوں وہ خود میری طرف آ جاتی ہیں۔”
میں مزید کچھ سنے بغیر نیچے آ گئی تھی۔
”تو کیا میں حدیدکو بھی کھو دوں گی۔” میں نے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر سوچا تھا۔
”تو پھر باقی رہے گا کیا؟” بہت دیر تک میں خالی الذہنی کے عالم میں وہاں بیٹھی رہی عالیہ نے ایک بار مجھ سے کہا تھا۔
”جتنا خود کو اس سے بہلا لو جب اسے ماں کی یاد آئے گی تو تمہاری کوئی یاد باقی نہیں رہے گی۔”
”کیا واقعی ایسا ہی ہوگا؟” میں نے خود سے پوچھا تھا، کافی دیر بعد سعد نیچے آیا تھا اور مجھ سے کچھ کہے بغیر اپنا بریف کیس اٹھا کر چلا گیا میں اسے چھوڑنے دروازے تک نہیں گئی، بس اپنی اس مشکل کا حل سوچتی رہی، میں اس پر کیا پڑھ کر پھونکوں کہ وہ ثمن کو بھول جائے اس کے بارے میں بات تک نہ کرے، وہ بس وہی حدید بن جائے میری انگلی پکڑ کر چلنے والا۔
”نہیں میں اس پر ظاہر نہیں کروں گی کہ میں نے کچھ سنا ہے جب تک پردہ ہے پردہ ہی رہنا چاہیے۔” میں نے بالآخر طے کیا تھا اس دوپہر میں نے اپنے ہاتھ سے حدید کے سارے پسندیدہ کھانے پکائے تھے مگر اس سے پہلے کہ میں اسے جگانے جاتی وہ خود لاؤنج میں آ گیا تھا، وہ یونیفارم میں ملبوس تھا اور جب میں نے اسے کھانا کھانے کے لیے کہا تو ایک بے تاثر چہرے کے ساتھ اس نے کہا تھا۔
”مجھے بھوک نہیں ہے ایک ضروری کام ہے اس کے لیے مجھے جانا ہے۔” میں نے بہت اصرار کیا تھا مگر وہ اپنا بیگ لے کر گیرج میں چلا گیا میں اس کے ساتھ ہی باہر آ گئی تھی۔
”اب کب آؤ گے؟” میں نے اس سے پوچھا تھا۔



”پتا نہیں۔” اس کا لہجہ بہت سپاٹ تھا۔ وہ کار کے کھلے دروازے پر ہاتھ جمائے مجھے دیکھتا رہا مجھے یوں لگا جیسے وہ جانے سے پہلے مجھے کچھ کہنا چاہ رہا تھا میں کٹہرے میں کھڑے مجرم کی طرح سزا سننے کے انتظار میں اسے دیکھتی رہی مگر اس نے کچھ نہیں کہا وہ گاڑی میں بیٹھ کر پہلی بار مجھے خدا حافظ کہے بغیر چلا گیا اور میں بہت دیر تک کھلے گیٹ کو دیکھتی رہی۔ مجھے لگا جیسے وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔
”نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے، میں نے اتنی محبت دی ہے اسے، اس کے لیے اپنی زندگی اپنی خوشیاں قربان کر دیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ مجھے چھوڑ دے۔” میں نے خود کو تسلی دی تھی اور اندر آ گئی تھی۔
دن پھر گزرنے لگے تھے۔ میں ہر روز حدید کوفون کرتی ہنس ہنس کر اس سے باتیں کرتی بالکل اس ڈوبنے والے کی طرح جو ڈوبنے سے پہلے ایک گہرا سانس ضرور لیتا ہے پتا نہیں میں کس کو دھوکا دے رہی تھی خود کو یا حدید کو میں نہیں جانتی بس میں یہ چاہتی تھی کہ کوئی ثمن میرے اور حدید کے درمیان نہ آئے مگر… ایسا ہوا نہیں۔
حدید ثمن سے ملنے گیا تھا اس نے مجھے بتایا نہیں پھر بھی میں جان گئی۔ اب مجھے حدید کے آنے کی خوشی نہیں ہوتی تھی میں اسے دیکھتی اور ایک عجیب سا خوف مجھے اپنے حصار میں لے لیتا میں اسے دیکھتی رہتی مجھے لگتا ابھی وہ مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کر دے گا ابھی وہ کہے گا کہ اسے مجھ سے نفرت ہے کیونکہ میں اس کی ماں نہیں ہوں مگر ایسا ہوا نہیں اس کا انداز بہت عجیب تھا، وہ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ جاتا تھا بالکل اپنی ماں کی طرح۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!