”تم اچھی ہو بہت اچھی ہو مگر میں ثمن سے محبت کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں، اس کے بغیر میں نے جتنے سال گزارے ہیں جہنم میں گزارے ہیں اور میں اب اس جہنم سے تنگ آ گیا ہوں تھک گیا ہوں، میں تمھیں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا مگر اس کے بغیر میں ثمن سے شادی نہیں کر سکتا، اس لیے میں نے تمھیں طلاق دے دی ہے۔ تین دن پہلے میں نے ثمن سے شادی کر لی ہے۔”
اس لفافے میں طلاق کے کاغذات ہیں ایک فلیٹ کے کاغذات بھی ہیں اور کچھ چیکس بھی، تمھیں کوئی مالی مسئلہ نہیں ہوگا، اس گھر سے تم جو لے جانا چاہتی ہو لے جاؤ، جتنا لے جانا چاہتی ہو لے جاؤ تمھیں اجازت ہے۔”
میں بے یقینی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی وہ میرے قریب بیڈ پر بیٹھا تھا اس کے اور میرے درمیان بس وہ لفافہ تھا اور یہ فاصلہ کتنا طویل تھا۔
”تم نے تو اس سے دھوکا کھایا تھا۔” مجھے اپنی آواز کسی اندھے کنوئیں سے آتی سنائی دی تھی۔
”میں نے اسے معاف کر دیا ہے، وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے اور پھر غلطی تو ہر ایک سے ہو جاتی ہے۔” وہ کتنا پرُسکون تھا کتنا عظیم تھا، وہ سب کی غلطیاں معاف کر دیتا تھا، ثمن سب کی غلطیاں معاف کر دیتی تھی، حدید سب کی غلطیاں معاف کر دیتا تھا اور اللہ سب کی غلطیاں معاف کر دیتا تھا، بس ایک میں تھی جسے کوئی بھی بخشنے پر تیار نہیں تھا۔
”اور حدید۔” میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا۔
”وہ بھی یہی چاہتا ہے۔” کوئی چیز میرے گالوں کو بھگونے لگی۔
”وہ بھی یہی چاہتا ہے۔” میں نے زیر لب دہرایا تھا پھرمیں اٹھ کھڑی ہوئی تھی کسی معمول کی طرح چلتی ہوئی میں کمرے سے باہر آ گئی۔
”ایمن یہ پیپرز لے لو۔” اپنے پیچھے مجھے سعد کی آواز سنائی دی تھی مگر میں چلتی رہی۔
”ایمن میں کہہ رہا ہوں یہ لے لو۔” وہ میرا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔
”میں انھیں کیا کروں یہ مجھے کیا دیں گے۔” میں نے اسے کہا۔
”میں نہیں جانتا تم تماشا نہ کرو بس یہ لے لو۔” اس نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تھا میں نہیں جانتی پھر مجھے کیا ہوا تھا بس میں پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے اسے بددعائیں دینے لگی تھی۔
”اللہ کرے سعد تم مر جاؤ سب مر جاؤ ثمن، تم، حدید سب یہ گھر برباد ہو جائے۔ میں کیا کروں اس لفافے کو لے کر بتاؤ، میں کیا کروں، تم نے اس عمر میں میرے سر سے چادر کھینچ لی ہے، میرا بیٹا چھین لیا ہے، مجھے گھر سے محروم کر دیا ہے اور تم کہتے ہو میں یہ لفافہ لے لوں کیا یہ ان سب چیزوں کی کمی پوری کر دے گا لاؤ، لاؤ میں لے لیتی ہوں اسے لے لیتی ہوں۔”
میں نے بات کرتے کرتے لفافہ اس سے جھپٹ لیا تھا اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے سیڑھیوں میں پھینک دیے، سعد وہیں سیڑھیوں میں ہی کھڑا رہا تھا وہ میرے پیچھے نہیں آیا میں بلند آواز سے روتی باتیں کرتی ہوئی نیچے اتر آئی گھر کے سب نوکر ہکا بکا مجھے دیکھ رہے تھے، شاید وہ جان گئے ہوں گے کہ اب میری اوقات اس گھر میں ان کے برابر بھی نہیں رہی تھی میرے مالک میرے آقا نے مجھے نکال دیا تھا اور وہ بھی تب جب مجھے ایک چھت کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کوئی اس عمر میں کسی کو اس طرح بے عزت کرتا ہے جیسے اس نے مجھے کیا۔
میں لوگوں کے سامنے کیسے جاؤں گی؟ میں کیا جھوٹ بولوں گی؟ میں کیا بتاؤں گی؟ سوالوں کی ایک آگ میرے وجود کو جلا رہی تھی میں نے کون سی نیکی کون سا ایثار نہیں کیا مجھے اس کا کیا اجر ملا؟
”میں نے تمھارے لیے کون سی قربانی نہیں دی، تمہاری کون سی اذیت برداشت نہیں کی، پچھلے پچیس سالوں سے تمھارے ساتھ رہی ہوں، یہ ایمپائر تم نے میری وجہ سے کھڑی کی ہے۔ یہ گھر یہ گاڑیاں یہ دولت تمھارے جسم پر موجود کپڑے تک میری بدولت ہیں۔ میری قربانی، میرے ایثار، میرے صبر کی بدولت ورنہ تم تھے کیا، میں نے حدید کو راتوں کو جاگ جاگ کر پالا ہے، میں نے اسے چلنا اسے ہنسنا اسے بولنا سکھایا ہے، میں نے اسے اس قابل بنایا ہے جو وہ آج ہے، تم نے نہیں ثمن نے نہیں ،تم لوگوں نے تو بس اسے پیدا کیا ہے، مگر وہ نمک حرام، احسان فراموش تھا، آخر تم لوگوں کا خون تھا اسے یہ سب تو کرنا ہی تھا، میں ہی بھول گئی کہ وہ بھی سانپ ہے تمھارے جیسا ثمن جیسا۔”
میں بلند آواز سے چلاتی ہوئی الٹے قدموں لاؤنج سے نکل گئی تھی وہ میرے پیچھے نہیں آیا کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آیا، میں پاگلوں کی طرح دوڑتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی۔
