Books ordered in deals and discounts will not be Signed by Umera Ahmed

Shopping Cart

مات ۔ عمیرہ احمد

رات کا پچھلا پہلا تھا جب ہم ایبٹ آباد اس کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے، وہ مجھے اپنے بیڈ روم میں لے آیا تھا، اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر اس کے ساتھ میری ایک تصویر رکھی تھی، مجھے بیڈ پر بٹھا کر وہ ڈریسنگ روم میں یونیفارم بدلنے چلا گیا تھا، واپس آ کر بھی اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی بس میری گود میں سر رکھ کر بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
میں اس کے چہرے کو دیکھنے لگی میری مار کے سارے نشان وہاں واضح تھے میں اس کے بالوں اور چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی اس نے کوئی حرکت نہیں کی وہ سو چکا تھا پتا نہیں کب سے نہیں سویا تھا، میں اس کا سر سہلاتی رہی جیسے بچپن میں سہلاتی تھی۔


*****

This post has one comment
Areej
– 9 Sep 2026

i am fan if umera ahmad so touching stories reality based .

Reply
Leave a Reply