Blog

Dana-Pani-Ep-8



گاؤں والوں نے اُس صبح گامو کو بڑی حیرانی سے دیکھا تھا جو کھیتوں کے بیچوں بیچ اپنے ایک چھوٹے سے کھیت میں لگی سبزیاں اُکھاڑ کر وہاں بھٹّی بنا رہا تھا۔ وہ قطعہ اراضی چھوٹا تھا اور گاؤں والوں کی زمینوں کے بیچوں بیچ تھا۔ گامو اُس پر تھوڑی بہت سبزی لگادیتا جو اُس کے گھر استعمال ہوتی، اور اب اُس چھوٹے سے کھیت کے بیچوں بیچ اُس بھٹّی کی سمجھ کسی کو تب تک نہیں آئی تھی جب تک گامو نے بھٹّی بناکر اُس میں آگ جلا کر ایک کڑاہی میں ریت ڈال کر دانے بھوننا شروع نہیں کردیئے تھے۔ وہ کڑکتی دھوپ کے بیچوں بیچ اُس بھٹّی پر دانے بھون رہا تھا، خریدار کا انتظار کئے بغیر۔
”گامو کیا کررہا ہے تو؟”



گاؤں کے لوگوں نے کچھ دیر تک آپس میں کُھسر پُھسر کی ، پھر انہیں لگا کسی نہ کسی کو جاکر گامو کو سمجھانا چاہیے اور اب وہ اُسے سمجھانے آئے تھے۔
” دیکھ نہیں رہے دانے بھون رہا ہوں!”
گامو نے اُس ہی روکھے اندازمیں بغیر اُن لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے کہا تھا۔
” ہاں دیکھ رہے ہیں، پر کس کے لئے دانے بھون رہے ہو؟” اُس آدمی نے اس بار کچھ تشویش سے استفسار کیا، جو اُس سے بات کررہا تھا۔
”کوئی نہ کوئی تو خریدے گا… نہیں خریدا کسی نے تو پرندوں کو ڈا ل دو ںگا۔” گامو اُس ہی لاپرواہی سے بولا تھا۔
” پر تُو تو پانی پلاتا تھا گامو… تو پانی نہیں پلائے گا تو گاؤں والوں کی پیاس کون بجھائے گا؟”
اُس آدمی نے بڑی فکرمندی سے اُس سے کہا تھا۔ گاموجس درانتی سے ریت میں دانے بھون رہا تھا، وہ پھیرتے پھیرتے رُک گیا۔
” پانی کسی کو نہیں چاہیے… سب کو دانے چاہیے… گامو نے پیاس بجھا کر کیا پایا…دیکھتا ہوں اب آگ لگا کر کیا ہوتاہے۔” وہ اُس ہی اندازمیں بولا تھا۔
”کھیتوں کے درمیان بھٹّی لگا کر بیٹھا ہے… تیری آگ کی کوئی ایک چنگاری اُڑ کر کسی کی تیار فصل پر گرگئی تو پورے گاؤں کے دانے جل کر راکھ ہوجائیں گے۔”
ایک دوسرے آدمی نے جیسے اُس کی بھٹّی کی آگ کے ممکنہ خطرات سے اُسے آگاہ کیا۔
”گامو کی آگ نے کسی کو کیا جلانا ہے… وہ تو خود راکھ بنا ہواہے۔”
گامو نے جواباً کہا تھا اور پھر ہاتھ کے اشارے سے اُنہیں جانے کا کہا تھا۔ وہ لوگ ناخوش وہاں سے چلے گئے تھے لیکن وہ گامو کی شکایت چوہدری شجاع کے پاس لے گئے تھے۔ ہر ایک کو گامو سے ہمدردی تھی، مگر اُس ہمدردی میں وہ اپنے کھیتوں میں لگی فصل کو تباہ ہوتے دیکھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
چوہدری شجاع حقّہ پیتے ہوئے اُن کی بات سنتا رہا۔ جب گاؤں والوں نے اپنے سارے خدشات کا اظہار کردیا تھا حقّہ گڑگڑانا چھوڑ کر چوہدری شجاع نے کہا۔
” گامو کے کھیت کے ساتھ کس کے کھیت ہیں؟” دو آدمیوں نے ہاتھ اُٹھائے۔
”تم دونوں گامو کے کھیت کے اردگرد ایک ایک پیالی خالی چھوڑدو…وہاں فصل نہیں لگے گی۔ گامو کی بھٹّی سے کوئی چنگاری اُڑی بھی تو بس اتنی دور ہی جائے گی۔”
چوہدری شجاع نے عجیب فیصلہ دیا تھا۔ گاؤں والے اُس کا منہ دیکھنے لگے تھے۔
”چوہدری صاحب آپ اُس کو بلا کر سمجھائیں۔”
”میں نہیں سمجھا سکتا… نہ وہ میرے کہنے پر آئے گا نہ میں اُسے سمجھانے اُس کے سامنے جاؤں گا۔ بس اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو۔ کبھی نہ کبھی تو ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ غصہ میں ہے۔لگانے اور بھڑکانے دو آگ…کتنی بھڑکائے گا؟”
چوہدری شجاع نے جیسے فیصلہ دے دیا تھا۔



گامو سارا دن اُس بھٹّی میں بیٹھ کر دانے بھونتا رہا۔ پہلے پہل گاؤں والوں نے اُس سے دانے نہیں لئے، پھر آہستہ آہستہ لوگ گزرتے ہوئے اُس سے دانے بھنوانے لگے۔ کبھی کوئی بھنے ہوئے دانے بھی لے لیتا۔ کبھی کوئی عورت آٹا لے کر روٹی لگوانے آجاتی۔ کھیتوں کے بیچوں بیچ وہ چھوٹا سا کھلیان اب سبزی نہیں اُگاتا تھا۔ لوگوں کے آنے جانے، چلنے پھرنے کی وجہ سے وہ بنجر ہوگیا تھا اور وہاں سے اُٹھتا دھواں گاؤں والوں کو ناخوش کرتا اور متفکر بھی ، لیکن کوئی گامو کو کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔
”دعا کر گامو مینہ برسے…ورنہ سوکھا پڑجانا ہے۔”لوگوں نے اُسے کہنا شروع کردیا۔
” کیا کرنا ہے پانی کا تم لوگو ں نے… دانے کماؤ…دانے بیچو… دانے کھاؤ۔” وہ جواباً ہنستاکہتا۔ لوگ اُس کے ہنسنے پر خفا ہوئے، وہ پاگل نہیں تھا پر غصہ دلانے والی باتیں کرتا تھا۔
” پانی نہیں ہوگا تو دانہ کہاں سے آئے گا گامو؟” کوئی نہ کوئی اُسے کہہ دیتااور گامو ہنستا ہوا دانے بھونتے بھونتے اُنہیں جلا کر راکھ کردیتا۔
چوہدر ی شجاع نے سوچا تھا، وہ بھٹّی گامو کے غصے کی آگ کو بجھا دے گی۔ وہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوجائے گا۔ پھر ماشکیوں والے کام پر چلاجائے گا۔ اُس کا یہ خیال غلط ثابت ہوا تھا۔ گامو کی بھٹّی سے اُٹھتے ہوئے دھویں نے آسمان کے بادلوں کا پانی پینا شروع کردیا تھا۔ جھوک جیون کے کھیت پانی سے بھری بدلیوں سے برسنے والی ایک ایک بوند کے لئے ترستے رہتے۔ کھیتوں نے سوکھنا شروع کردیا تھا اور گاؤں والوں کے ساتھ ساتھ چوہدریوںکو بھی پریشانی لاحق ہوگئی تھی۔ دعائیں، خیرات، صدقہ جو کرسکتے تھے انہوں نے کیا تھا بارش نہیں برسی تھی مگر اس ہی سب کے دوران چوہدریوں کے ہاں مراد کا دوسرا بیٹا آگیا تھا۔
دھوم دھڑکا اب بھی پہلے ہی کی طرح ہوا تھا بارش ہوتی نہ ہوتی، فی الحال چوہدریوں کے بھڑولے اناج سے بھرے ہوئے تھے اور وہ پیسہ لٹا سکتے تھے، جتنا بھی لُٹانا چاہتے۔ گامو اور اللہ وسائی کے دل پر ایک بار پھر چھریاں چلی تھیں، جب مٹھائی کے ٹوکرے پورے گاؤں کے ساتھ ساتھ اُن کی گلی میں بھی ڈھول باجے اور ہیجڑوں کے ناچ گانے کے ساتھ بانٹے گئے تھے۔ وہ پہلا موقع تھا جب اُنہیں موتیا کی ذہنی کیفیت کے خراب ہونے پر اطمینا ن ہوا تھا۔ وہ ٹھیک ہوتی تو یہ سب کیسے سہتی؟ بولتی نہیں تھی پھر بھی اُن کی آنکھوں کے سامنے تو تھی۔ نہ رہتی تو وہ کدھر جاتے۔


٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!