Blog

Dana-Pani-Ep-1

”تاجور بی بی ایسی حسین ہیں گامو کہ اُن سے نظریں نہیں ہٹتی ۔ میں تو دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔”
اللہ وسائی نے اُس شام گامو کو تاجور کے بارے میں بڑے اشتیاق سے بتانا شروع کیا تھا جب گامو نے اُسے ٹوک دیا۔
”نہ نہ اللہ وسائی پیر صاحب کی بیٹی کے حسن کے بارے میں کسی غیر محرم سے بات نہ کر سیّدوں کی بیٹیوں کے پیچھے بھی اُن کے بارے میں بات نہیں کرتے۔”
”پتہ ہے مجھے پر پھر میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ دیکھنے میں کیسی لگتی ہیں۔”
”کچھ نہ بتا مجھے اور نہ ہی مجھے سننا ہے۔ بس تو اُن سے پوچھ کر اُن کی خدمت کے لئے چلی جایا کر۔” گامو نے اُس سے کہا تھا۔
”لے ایک طرف تو مجھے کام کرنے سے روک رہا ہے اور دوسری طرف اُن کی خدمت کے لئے جانے کا کہہ رہا ہے۔ ”اللہ وسائی نے ہنس کر جیسے گامو کویاد دلایا تھا۔
”اُن کی خدمت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا تجھے۔ اُنہیں کے گھر کے طفیل تو رب سوہنے نے نوازا ہے ہمیں۔”
”ہاں یہ بھی ٹھیک کہہ رہا ہے تو… پر تجھے وہاں کلام پڑھنے سے کیوں روک دیا انہوں نے ؟”



”جھلّی بتایا تو ہے سیّدوں کی بیٹیاں غیرمحرموں کی آوازوں سے بھی پردہ کرتی ہیں۔ میری ہی غلطی تھی میں اتنی اونچی کلام پڑھنے بیٹھ گیا۔ اب ہمیشہ نیچی آواز میں کلام پڑھوں گا وہاں۔” گامو جیسے خود ہی اپنی اصلاح کرتے ہوئے بولا۔
”گامو میں موتیا کے گجرے لے کر گئی تھی اُن کے لئے اپنے باغوں سے بناکر … پتہ نہیں انہوں نے پہنے یانہیں۔” اللہ وسائی کو رہ رہ کر خیال آرہا تھا۔ اُن پھولوں کو اس نے طبیعت خراب ہونے کے باوجود بھی صبح سویرے جگہ جگہ سے چنا تھا۔
”تو نے دل سے بنائے ہیں تو انہوں نے ضرور پہنے ہوں گے۔” گامو نے جیسے اُس کی دلجوئی کی تھی۔
”ہاں بنائے تو دل سے ہی تھے ۔ یہ دیکھ پروتے ہوئے کتنی بار سوئی لگی ہے انگلیوں میں۔” اُس نے گامو کے سامنے اپنے ہاتھ کرتے ہوئے کہا۔
گامو جیسے تڑپ اٹھا تھا۔
”جھلیئے احتیاط سے کام کرنا تھا کیسے اُدھیڑ دی ہیں اپنی انگلیاں سوئی سے۔ بس اب کوئی سینے پرونے کا کام نہیں کرنا تونے پھول تک نہیں پرونے تونے۔”
اللہ وسائی منہ میں دوپٹہ دبائے ہنستی ہی چلی گئی۔
”لو بھلا اب تو پھولوں سے بھی دور رکھے گا مجھے… ابھی تو پھولوں کا وقت آیا ہے۔ میں نے تو اپنی بیٹی کا نام بھی موتیا ہی رکھنا ہے گامو تاکہ اُس کے حسن کی خوشبو بھی پوری دنیا میں پھیلے۔” گامو نے پیار سے اُسے دیکھا۔
”لے تو نے نام بھی سوچ لیا اور مجھ سے مشورہ بھی نہیں کیا۔”
”میں نے نام نہیں سوچا ۔ پیر صاحب نے موتیا ہی پکڑایا تھا نا تجھے۔ میں نے تو اُسی وقت سوچ لیا تھا کہ اللہ اچھا وقت لائے تو بس موتیا ہی نام ہوگا اُس کا ۔” اللہ وسائی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ گامو سرہلا تا چلا گیا۔
”ہاں پیر صاحب نے توموتیا ہی دیا تھا۔ تو بس موتیا ہی ہوگا اُس کا نام ۔”



٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!