Blog

Dana-Pani-Ep-1

پیر ابراہیم کا ڈیرہ کئی دہائیوں سے دُعا کے لئے آنے والے لوگوں سے بھرا رہتا تھا۔ وہ نہ روایتی پیر تھے نہ کوئی گدی نشین نہ ہی وہ تعویذ دھاگے کرتے تھے پھر بھی لوگ اُن کے پاس آکر بیٹھتے تھے مسئلے بتاتے تھے دُعا کرواتے تھے۔ لوگ کہتے تھے اُنہیں اُن کے بچپن میں کسی بزرگ کی دُعا لگی تھی اور جیسے اُن کا ہاتھ فیض والا ہاتھ ہوگیاتھا۔ پر پیرابراہیم کو اس کااحساس بڑے ہوکر ہوا تھا کہ فیض بانٹنے والے پر کیسا بھاری بوجھ ہوتا ہے۔
وہ جدّی پشتی زمیندار تھے اور اُن کی شادی سیّد نہ ہونے کے باوجود سیّدوں میں ہوئی تھی۔ وہ خود جتنی عبادت کرنے والے انسان تھے اُنہیں بیوی بھی ویسی ہی عبادت کرنے والی ملی تھی۔ کہتے ہیں جوانی کی عبادت اللہ کو بہت پیاری ہوتی ہے اور وہ دونوں میاں بیوی جوانی میں عبادت کرنے والے تھے اورپیر ابراہیم کو یقین تھا اُن سے ملنے والا فیض تب ہی جاری رہ سکتا تھا جب وہ خود سیدھے رستے پر رہتے… جس دن وہ اللہ کی حدیں توڑتے وہ ڈیرہ ختم ہوجاتا۔
گامو اور اُس کی بیوی ناشتہ کرکے اُس دن صبح سویرے نکلے تھے پر جب تک وہ دوسرے گاؤں میں پیرابراہیم کے ڈیرے پر پہنچے تو سہ پہر ہوچکی تھی اور اُنہیں وہ ڈیرہ خالی ملا تھا۔
”پیر صاحب سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔” گامو نے ایک آدمی سے کہا جو ڈیرے کے باہر صحن میں کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا۔
” پیر صاحب تو اُٹھ گئے۔ جلدی آنا تھا۔” اُس ملازم نے جواباً اُسے کہا تھا۔ گامو کچھ مایوس ہوا۔
”اٹھ گئے؟… ہم تو دس میل چل کر آئے ہیں دوسرے گاؤں سے۔” وہ ملازم ہنس پڑا تھا۔
”یہاں تو لوگ بیس بیس میل چل کر بھی آتے ہیں۔ اگلے ہفتے آجانا۔ وہ روز روز تو بیٹھتے بھی نہیں کہ میں تمہیں کہوں رات رُک جاؤ اور کل مل کے چلے جانا۔” ملازم نے جیسے بڑی لاپرواہی سے اُن سے کہا تھا۔ گامو اور اللہ وسائی بڑی مایوسی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے تھے۔



”بڑی مصیبت میں ہیں ہم بھائی… کوئی اور طریقہ نہیں ہے؟” اللہ وسائی نے اُس ملازم کی منت کرتے ہوئے کہا۔
”یہاں سارے مصیبتوں والے ہی آتے ہیں۔ کوئی تم اکیلے تھوڑی ہو ضرورت مند۔” وہ ملازم کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔ گامو کندھے پر ڈالی ہوئی مشک سے اُس برتن میں پانی ڈالنے لگا۔ جو کبوتروں کے لئے رکھا تھا۔ اللہ وسائی کے برعکس وہ بڑا لاپرواہ نظر آرہا تھا۔
”اب کیا ہوگا گامو؟” اللہ وسائی نے اُس سے پوچھا۔
”کچھ نہیں ہوگا چل واپس چلیں اب اگلے ہفتے آجائیں گے۔”گامو چلتے ہوئے اُس امرودوں والے باغ کی طرف جانے لگا جہاں سے گزر کر وہ ڈیرے تک پہنچے تھے۔ اللہ وسائی نے یک دم دلبرداشتہ ہوکر رونا شروع کردیا۔
”تجھے کہا بھی تھا جلدی چل۔ تونے کہا نہیں پہنچ جائیں گے آرام سے۔” وہ اب گامو سے لڑنے لگی تھی۔
”مجھے کیا پتہ تھا اتنی دور ہوگا ڈیڑہ… میں کون سا روز روز آتا ہوں یہاں… پہلی بار آیا تھا ۔ ہوگئی بھول چوک آنے میں۔” گامو نے بیوی کو روتے دیکھ کر جیسے صفائی دی تھی۔
”میری قسمت میں ہے ہی نہیں اولاد ۔ تودوسری شادی کرلے گامو۔” اس کے ساتھ چلتی اللہ وسائی نے یکدم بے حد دلبرداشتہ انداز میں کہا۔
”جھلّی ہوگئی ہے تو؟ اگر تیری قسمت میں نہیں ہے تو پھر سمجھ دونوں کی قسمت میں نہیں ہے۔ ا س طرح مت مشورے دے مجھے۔” گامو نے اُسے جھڑک دیا تھا۔
”تیرے سر پر سوکن لاکر کون بٹھائے گا۔”
”کیوں؟”اپنا ناک چادر سے سڑکتی اللہ وسائی نے پوچھا۔
”تیری بددعائیں کون لے۔ کالی زبان ہے تیری۔”گامو نے کانوں کی لوویں چھوتے ہوئے کہا۔
”میں کیوں دوں گی تجھے بددعائیں۔” اللہ وسائی بے ساختہ بولی۔
”زبان سے نہیں دل سے تودے گی نا… اور دل سے نکلی بد دعا سیدھا دوزخ میں لے جاتی ہے بندے کو۔” اُس کی بات پر اللہ وسائی ایک بار پھر رونے لگی تھی۔
”نہ رو جھلیئے چل تجھے حق باہو صاحب کا کلام سناتا ہوں۔ راستہ کٹ جائے گا ہمارا۔” اُس نے اللہ وسائی کا کندھا تھپک کر نرمی سے اُسے کہا تھا۔ اللہ وسائی نے ناک اور آنکھیں دوپٹے سے رگڑتے ہوئے صاف کرلی تھیں گامو اُسے رونے نہیں دیتا تھا۔ بھایا بن کر اُس کے زخموں کو مندمل کردیتا تھا۔
حق باہو کا کلام پڑھتے ہوئے گامو نے مشک کا پانی امرود کے درختوں کو دینا شروع کردیا۔



پیر ابراہیم نے اسی باغ میں ایک جگہ سے گزرتے ہوئے گامو کی آواز میں وہ کلام سنا تھا۔ وہ کلام جتنا پرسوز تھا۔ اُس کو پڑھنے والے کی آواز اُس سے بھی زیادہ پرسوز ۔ وہ مسجد میں امامت کروانے جاتے جاتے اُس آواز کے پھندے میں آئے تھے اور پھر جیسے کھنچے چلے آئے تھے اُس طرف جہاں سے گامو کی آواز آرہی تھی ۔ وہ اُن ہی کاباغ تھا اور وہاں پرندے چہچہاتے تھے پر آج گامو نے جوتان لگائی تھی وہ پیر ابراہیم کے دل کو اس کی مٹھی میں کر گئی تھی۔ چلتے ہوئے آواز کو کھوجتے انہوں نے ایک درخت کو پانی دیتے گامو کو دیکھ لیا تھا اور اللہ وسائی کو بھی۔ اور جب گامو سیدھا ہوا تھا تو اُس نے پیر ابراہیم کو بھی دیکھ لیا تھا جو بڑی دور تھے مگر اُن ہی کو دیکھ رہے تھے۔ گامو یک دم چپ ہوگیا تھا ۔ اُسے درختوں کے پار اُس آدمی کو دیکھ کر عجیب ہیبت آئی تھی۔ حالانکہ وہ آدمی بے حد نرم خو لگتا تھا۔ پیر ابراہیم اُس کے قریب آگئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!