Blog

dana pani fb2-01

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دانہ پانی – قسط نمبر05 – عمیرہ احمد



اساں خالی کھوکھے ذات دے
سانوں چنجاں مارن کاں
اسی کچّے کوٹھے عشق دے
ساڈی دُھپ بنے نہ چھاں
(ہماری ذات خالی کھوکھے جیسی ہے
اور ہمیں کوّے چونچ مارتے رہتے ہیں
ہمارا پیار بھی کچے کوٹھے جیسا ہے
جہاں نہ دھوپ آتی ہے نہ چھاؤں)
تاجور نے زندگی میں ویسی رات کبھی نہیں گزاری تھی… رات بھاری ہونا اُس نے صرف سُنا تھا پر وہ ہوتی کیا تھی، وہ اُس نے اب جانا تھا۔ ایک ہی دن میں وہ لکھ سے کھکھ ہوگئی تھی۔ بغاوت پہلے بیٹا کررہا تھا، اب شوہر بھی کرنے لگا تھا۔تاجور کے سر کا تاج اُس کی اکلوتی اولاد کی زندگی کا فیصلہ اُس کی مرضی کے بغیر کرنے جارہا تھا اور کیا بے حیثیتی سی بے حیثیتی تھی کہ تاجور سے اُس نے پوچھا تک نہ تھا۔ چوہدری شجاع اُس رات تاجور کے دل سے اُتر گیا تھا و ہ اب بس اُس کا شوہر تھا جس کے ساتھ اُس نے مقابلہ کر کے جینا تھا۔
موتیا اُس کے لئے پہلے چڑیل تھی اب بھوت بن گئی تھی۔ اُس کا اپنا باپ، شوہر، بیٹا تینوں اُس بھوت کی انگلیوں پر ناچ رہے تھے یا کم از کم اُس کو اُس رات یہی لگ رہا تھا۔ وہ اُس پر جادو ٹونے کرواسکتی تو جی بھر کے جادو ٹونے کرواتی، پر اُس کے پاس جادو ٹونوں کابھی وقت نہیں رہا تھا۔ وہ چند دنوں میں اُس کی حویلی میں اُس کے تخت و تاج کو جیسے چھین لینے کے لئے آنا چاہتی تھی۔ کوئی تاجور کو اُس ذہنی کیفیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں سمجھا سکتا تھا اور شاید سارا مسئلہ ہی یہیں سے پیدا ہورہا تھا۔
حویلی میں اُس رات ہر ایک سورہا تھا اور جاگ رہی تھی تو صرف تاجور جو ننگے پاؤں ایک برآمدے سے دوسرے برآمدے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پھر رہی تھی یوں جیسے جلے پاؤں کی بلّی ہو یا کوئی غضب ناک شیرجو بھوکا ہو اور آخری لمحے میں کوئی اُس کے منہ سے شکار چھین کر غائب ہوگیا ہو۔
باہر گاؤں کی گلیوں میں کُتّے بھونک رہے تھے اور بھونکتے ہی جارہے تھے اور اُن کا بھونکنا تاجور کو اُس وقت اور مشتعل کررہا تھا۔ اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اُس پر ہنس رہے ہوں ، جیسے پورے گاؤں کی عورتیںہنستیں جب حویلی میں موتیا اُس کی بہو بن کر آتی۔ اُسے کچھ کرنا تھا۔ کوئی توڑ… کوئی اُپائے… اور جو بھی کرنا تھا فوری طور پر کرنا تھا۔
تاجور چلتے چلتے مراد کے کمرے میں پہنچ گئی تھی جس کا دروازہ کُھلا تھا اور بستر پر اُس کابیٹا گہری نیند سورہا تھا۔ وہ کمرے کے دروازے میں کھڑے کھڑے مراد کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر کُھلی کھڑکی سے چاندنی جیسے اپنا فسانہ لکھ رہی تھی۔ تاجور کی نظر اُس کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ جو غصہ اُسے چوہدری شجاع پر آیا تھا، وہ مراد پر آتا ہی نہیں تھا۔ مراد کا سارا غصہ موتیا لے جاتی تھی۔ اُس کا بیٹا بھولا تھا جسے ایک کمّی کمین نے پھنسا لیا تھا۔ ہر ماں کی طرح اُس نے بھی خود کو یہی تسلّی دی تھی۔ وہ اُس کا نافرمان ہوگیا تھا۔ یہ ماننے کے لئے تاجور میں جگرا نہیںتھا۔ اولاد کا بھٹک جانا تو گوارہ ہوتاہے، نافرمان ہوجانا برداشت نہیں ہوتا۔ وہاں کھڑے کھڑے تاجور نے اُس پر قُل پڑھ کر پھونکے تھے آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تھی ۔جو ، جو وہ پڑھ کر پھونک سکتی تھی اُس نے پھونکا تھا۔ اُسے یقین تھا وہ ہر چیز کے شر سے محفوظ رہے گاسوائے موتیا کے اور اُس کے لئے تاجور کو کچھ اور کرنا تھا


٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!