Blog

Dana-Pani-Ep-7

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دانہ پانی
عمیرہ احمد
قسط نمبر ۰۷



کپڑا پھٹے تے لگے تروپا
دل پھٹے کی سینا
سجناںباج محمد بخشا
کیہہ کرنا کیہہ جینا

“چل موتیا بس دیکھ لی ہے تُو نے بارات ، اب نیچے اتر۔ یہ نہ ہو کسی کی نظر لگ جائے۔ “اللہ وسائی نے ڈھول تاشوں کے شور میں اُسے بازو سے پکڑ کر منڈیر سے پیچھے ہٹایا تھا۔ موتیا نے ایک لمحہ کے لئے پلٹ کر مراد کو دیکھنا چاہا پر وہ دیکھ نہیں سکی۔ اللہ وسائی کے ہاتھ کی گرفت ایسی ہی سخت تھی۔ سکّوں کی برسات میں وہ کھلکھلاتی ہوئی اللہ وسائی کے ساتھ لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اُترنے لگی تھی اور اُس نے اُترتے ہوئے اپنے صحن کو دیکھا تھا جس میں ہر طرف سکّے بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ گھومتے، ناچتے گررہے تھے … کچھ گرچکے تھے۔وہ واقعی بارش کی بوندوں کی طرح برس رہے تھے۔
موتیا نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور ایسا منظر تو اُس گاؤں نے بھی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ بوریوں کی بوریاں سکّوں کی یوں لُٹائی جارہی تھیں اور سکّے گلی کے ساتھ ساتھ دائیں بائیں لوگوں کے گھروں میں بھی اچھالے جارہے تھے۔ مگر ایک گھر میںوہ خاص طور پر اُچھالے جارہے تھے، اور وہ گھر گامو کا تھا، اور گامو گلی میں بارا ت کا یہ طمطراق دیکھ رہا تھا۔ اُچھالے ہوئے سکّے پکڑنے کی چھینا جھپٹی نے بارات کو جیسے ایک ہی جگہ کھڑا کردیا تھا۔ بارات آگے جا ہی نہیں پارہی تھی۔ اور تب ہی گامو کو خیال آیا کہ اُسے خود چوہدری شجاع کو سلام کرنا چاہیے۔ اُسے بگّھی سے اُتارنا چاہیے۔ وہ آگے گیا تھا اور اُس نے کُھلی بگّھی میں بیٹھے چوہدری شجاع اور تاجور کو دیکھا پھر عاجزی کے ساتھ اُس نے چوہدری شجاع کی طرف کا دروازہ کھول کر اُنہیں سلام کیا۔چوہدری شجاع نے سلام کا جواب دیا۔
“ملنی یہیں کرلیں چوہدری جی یا بارات کو آگے جانے دیں۔ “اُس نے اپنے کندھے پر پڑی چادر سیدھی کرتے ہوئے شور شرابے میں آواز بلند کرتے ہوئے چوہدری شجاع سے کہا۔ وہ اُلجھا۔
“کیسی ملنی گامو؟”گامو نے اُس کا چہرہ دیکھا پھر نہ سمجھنے والے اندازمیں ہنستے ہوئے کہا۔
“ہماری طرف بڑا میں ہی ہوںچوہدری جی اور آپ کی طرف آپ۔”
چوہدری شجاع کو کرنٹ لگا تھا۔ اُس نے بے اختیار برابر میں بیٹھی تاجور کو دیکھا جس نے بڑے اطمینان سے گامو سے کہا۔
” تمہارے گھر بھی دانوں کی بوری اور کپڑے آئیں گے گامو۔ گاؤں کے ہر گھر میں چوہدریوں کی طرف سے جائے گا یہ تحفہ۔ یہ میرے بیٹے کی جان کا صدقہ ہے۔ اُس کی شادی کا تحفہ۔ آگے سے رستہ صاف کرواؤ۔ بارات نے آگے گزر کر جانا ہے۔ ہمیں دیر ہورہی ہے ،اگلے گاؤں میں پہنچتے پہنچتے اور بھی دیر ہوجائے گی۔”
تاجور نے بے حد تنفر سے بڑے تحکمانہ اندازمیں اُس سے کہا تھا اورگامو کو یوں لگا جیسے اُس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا ہو۔
چوہدرائن جی نے کیا کہا تھا بارات کس گاؤں جارہی تھی اور کیوںجارہی تھی؟ اُس کا گھر تو یہیں تھا۔اُس نے عجیب سکتے کی سی کیفیت میں سوچا تھا۔ چوہدریوں کے ایک ملازم نے بگّھی کے کئے راستہ صاف کروالیا تھا اور اب بگّھی گامو کو پیچھے چھوڑ کر آگے سر ک گئی تھی۔ چوہدری شجاع نے بُت بنے کھڑے گامو کے پاس سے بگّھی پر بیٹھے گزرتے ہوئے تاجور سے پوچھا۔
“تم نے گامو کو بتایا نہیں تھا کہ بارات اُس کے گھر نہیں آرہی؟ اُ”نہوں نے جیسے اپنے کسی خدشے کی تصدیق کرنا چاہی تھی۔ تاجور نے عجیب سے اندازمیں مسکراتے ہوئے شوہر سے کہا۔
” نہیں… اُس نے سوچ کیسے لیا کہ چوہدر ی کی بارات کمّی کمینوں کے گھر آئے گی۔”
چوہدری شجاع نے جواباً اُسے جن نظروں سے دیکھا تھا، تاجور اُن سے نظریں چراگئی۔ اُس نے اطمینان سے منہ موڑ لیا تھا۔



” تُو نے ظلم کیا تاجور!” اُس نے شوہر کو ملامت بھری آوازمیں بڑبڑاتے سُنا تھا مگر اُس نے پھر بھی شوہر کو دیکھا نہیں تھا۔ وہ صرف چوہدری تھا اور تاجور کو یقین تھا کہ وہ سیّد بھی تھی اِس لئے اُسے سب معاف تھا… سات خون بھی… یہ تو بس گامو کی عزت تھی اور موتیا کا دل… یہ بھلا کس کھاتے میں آتا تھا۔
بگّھی گامو کے پاس سے گزرگئی تھی اور گامو کے ہاتھ سے ملنی کی وہ سفید چادر گرگئی تھی جو اُس نے قرض لئے ہوئے پیسوں کے ساتھ لی تھی۔ موتیا کی شادی کے لئے اُس نے بہت سارے لوگوں سے پیسے پکڑے تھے۔ جتنے بھی ہوسکتے تھے۔ وہ چوہدریوں کی حیثیت کے مطابق شادی نہیں کرسکتا تھا، مگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر تو شادی کرسکتا تھا اور اب وہ سفید کھدّر کی چادر گاؤں کی دھول مٹّی میں اٹی پڑی تھی اور گامو کو لگ رہا تھا اُس کے اردگردسکّے پکڑتے گاؤں کے لوگ سکّے نہیں اُس کی عزت کی دھجیاں نوچ رہے تھے۔ وہ ساری سرگوشیاں جنہیں وہ اتنی دیر سے کانوں سے دماغ تک جانے ہی نہیں دے رہا تھا، اب ایک بار پھر اُس کے کانوں میں سرسرانے لگی تھیں۔
“چوہدری شجاع نے اپنے سالے کی بیٹی کے ساتھ کیا ہے رشتہ…”
“بارات وہیں جارہی ہے اور چوہدری مراد کی مرضہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ…”
“تجھے کسی نے بتایا نہیں گامو؟”
وہ سرگوشیاں ڈھول تاشوں پر حاوی ہوگئی تھیں۔ وہ چوہدری مراد کی بارات نہیں تھی، وہ گامو کی عزت کا جنازہ تھا جو چوہدریوں نے نکالا تھا۔ گامو کو کبھی زندگی میں غصہ نہیں آیا تھا۔ وہ حق باہو کا کلام پڑھ پڑھ کر ڈرنے اور رونے والا انسان تھا۔ پر اُس کی زندگی میں غصہ کا پہلا لمحہ وہاں آیا تھااور غصہ بھی نہیں وہ طیش تھا وہ جیسے اس وقت وہاں سب کو ماردینا چاہتاتھا۔اُس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار ہوتا تو وہ یہی کرتا، ہر اُس کے ہاتھ تو کیا گھر تک میں کوئی ہتھیار نہیں تھا… کچھ بھی نہیں جس سے گامو اپنے غصے کا اظہار کرتا۔ چوہدریوں کی تذلیل کرتا…حساب برابر کرنے کی کوشش کرتا۔ اللہ نے اُسے چیونٹی بنایا تھا اور چوہدریوں کو ہاتھی…اور یہ احساس گامو کو زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ اُس کی موتیا کا دل ٹوٹنے والا تھا اور گامو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرگزرے۔




تاجور نے گامو اور موتیا دونوں کو چھت پر کھڑے دیکھا تھا، اُس نے گامو کو بارات پر تھوکتے بھی دیکھا تھا ۔ اُس کی بگّھی اُس وقت اُس کے دروازے کے سامنے سے گزررہی تھی۔
"یہ کمّی کمین میرے بیٹے کی بارات پر تھوکے گا؟" اس کی اتنی جرأت۔ تاجور تڑپی تھی اور اُس نے چوہدری شجاع سے کہا تھا جس نے سر اُٹھا کر گامو کو دیکھا تھا پھر اُس کے برابر کھڑی موتیا کو۔ ننگے سر والی اُس دلہن کو دیکھ کر چوہدری شجاع کا سر جھک گیا تھا۔
"ہم اس ہی قابل ہیں تاجور…تھوکنے دے۔شاید اُس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ بددعا نہ دے۔" چوہدری شجاع نے بیوی سے کہا تھا اور تاجور کو مشتعل کردیا تھا۔
"ہم کوئی بیٹیوں والے ہیں کہ اُس کی بددعاؤں سے ڈریں گے، ہم بیٹے والے ہیں۔"
اُس نے تن کے شوہر سے کہا تھا اور پھر موتیا کو دیکھا تھا جو اُسے نہیں دیکھ رہی تھی وہ اب بھی اُس کے بیٹے کو دیکھ رہی تھی جو دور جارہا تھا۔ تاجور کو اُس کی نظر، اُس کے انداز سے خوف آیا۔ اُ س نے آج واپسی پربھی بیٹے کا صدقہ اُتارنا تھا۔ گیارہ بکرے ذبح کرنے تھے۔ اب بائیس کا طے کرلیا تھا اُس نے۔
بارات موتیا کی گلی سے گزرگئی تھی۔ گلی کے سارے لوگ بارات کے ساتھ ہی آگے چلے گئے تھے۔اُنہیں اج وہاں تک سکّے پکڑنے تھے جہاں تک بارات سکّے لٹاتی۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں اب دور ہوگئی تھیں۔ گامو نے جیسے ہار کر خالی گلی کو دیکھا تھا پھر موتیا کو جو اب بھی کھڑی گلی میں اُس طرف دیکھ رہی تھی، جہاں سے بارات گئی تھی۔ گامو کو پہلی بار اُس کے ننگے سر کا خیال آیا۔
اُس نے اُس دوپٹے کو ڈھونڈا تھا جو چھت کے ساتھ ٹکی سیڑھی پر اٹکا ہوا تھا۔ اُس نے دوپٹہ لاکر موتیا کے سر پر ڈالا تھا۔ پھر بیٹی کا چہرہ دیکھا تھا۔ وہ اب بھی روئی نہیں تھی۔ بس گلی کے بجائے باپ کو دیکھنے لگی تھی۔اُس کی آنکھوں میں پانی نہیں تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں اب اور کچھ بھی نہیں تھا۔ غم،درد، شکوہ، کچھ بھی نہیں…اُس کی آنکھیں خالی آنکھیں تھیں۔
گامو اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے نیچے لے آیا ۔ وہاں صحن میں اللہ وسائی نڈھا ل بیٹھی تھی۔ وہ شادی کا گھر نہیں میّت والا گھر لگ رہا تھا۔
"دیکھ اللہ وسائی تیری بیٹی کتنی دلیر ہے، ایک آنسو نہیں بہایا اِس نے۔"
گامو نے صحن میں آتے ہی اپنی بیوی سے کہا تھا۔ اُسے اب جیسے گھر کی ان دونوں عورتوں کو تسلّی دینے کے لئے مرد بننا تھا۔ ہمّت اور حوصلے والا مرد۔
اللہ وسائی نے موتیا کا چہرہ دیکھا تھا اورو ہ اُٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی۔ وہ ماں تھی، ایک نظر میں اُس کے دل تک پہنچ گئی تھی۔ موتیا کے سامنے کھڑے ہوکر اُس نے بیٹی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔ وہ آنکھیں جیسے کنویں کی آنکھیں تھیں۔ سوکھے کنویں کی آنکھیں۔ اللہ وسائی نے سینے پر ہاتھ مارا تھا پھر موتیا سے کہا۔
" تو نے رونا ہے نا موتیا ،تُو رولے… میری دھی دل نہ بن…غم نہ پی… سب کچھ اُگل دے… سب کچھ بہا دے۔"
وہ ماں کی طرح اُسے کندھوں سے پکڑے جھنجھوڑتی رہی۔ موتیا گم صم اُس ہی طرح کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔ نہ وہ روئی تھی، نہ اُس نے کوئی آواز نکالی تھی۔ گامو اور اللہ وسائی اپنے گھر کے صحن کا دروازہ بند کئے بکھرے سکّوں کے بیچوں بیچ موتیا کی زبان کھولنے کی کوشش کرتے رہے، پتہ نہیں اُسے کیا کیا سُناتے اور بتاتے رہے کبھی اُسے سینے سے لگاتے، کبھی اُس کے ہاتھ پاؤں رگڑتے رہے۔ موتیا نے نہیں بولنا تھا وہ نہیں بولی۔اُس نے رونا نہیں تھا، وہ نہیں روئی۔ اُس کے ماں باپ روتے رہے اور وہ بت بنی انہیں دیکھتی رہی۔
غم کچھ لوگوں کو سمندر کردیتا ہے، کچھ کو بنجر اور کچھ کو غم ،ہوش و خرد سے پرے لے جاکر بٹھادیتاہے۔
موتیا نے زندگی میں محبت کر کے بس ایک نافرمانی کی تھی اپنی مرضی کی محبت کر کے اور وہ نافرمانی اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے ماں باپ کو بھی لے ڈوبی تھی۔ وہ اب اُس نافرمانی کو لے کر رب کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی۔ رب کے سامنے ہر کوئی کبھی بھی جاکر کھڑا ہوسکتاہے۔ رب ماں کی طرح مرہم رکھتاہے، بندے کے کرچی کرچی وجود کو اس طرح جوڑدیتاہے کہ لکیر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتی اور رب بعض دفعہ کرچی کرچی وجود کی وجہ بننے والوں کو بھی اس ہی طرح کرچیوں میں توڑدیتا ہے۔
چوہدری شجاع نے ٹھیک کہا تھا ۔ تاجور نے ظلم کیا تھا… غلط دل کو توڑ بیٹھی تھی… وہ گامو اور اللہ وسائی کی موتیا کا دل تھا…اُس تحفے اور نعمت کا دل تھا جو رب نے اُن دونوں کی نیکیوں کے عیوض انہیں عطا کیا تھا۔
٭…٭…٭


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!